الہ آباد، 7؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں لاؤڈ اسپیکر کے تنازع کے درمیان الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اذان کیلئے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بنیادی حق نہیں ہے-
ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے بدایوں کی نوری مسجد کے متولی کی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت والی عرضی کو خارج کر دیا-اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت دینے سے انکار کر دیا- یہ عرضی بدایوں کی تحصیل بسولی کے گاؤں دوران پور کی نوری مسجد کے متولی محمد عرفان کی جانب سے دائر کی گئی تھی- عرضی میں ایس ڈی ایم سمیت تین لوگوں کو فریق بنایا گیا تھا-
اس عرضی میں ایس ڈی ایم کے ذریعہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت طلب کرنے والی درخواست کو خارج کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا-عرضی میں ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی کہ لاؤڈ اسپیکر بجانے کی اجازت بنیادی حق کے تحت دی جانی چاہئے- بدھ کے روز جسٹس وویک کمار برلا اور جسٹس وکاس کی ڈویژن بنچ میں سماعت ہوئی-
عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بنیادی حق میں نہیں آتا- لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کیلئے کوئی اور ٹھوس بنیاد نہیں دی گئی ہے- عدالت نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا- اس کے ساتھ ہی عدالت نے عرضی میں کیے گئے مطالبے کو غلط قرار دیا-
خیال رہے کہ کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا(ایم این ایس)کے صدر راج ٹھاکرے نے مذہبی مقامات سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا- ایم این ایس سربراہ نے دھمکی دی تھی کہ جب تک لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دی جائے گی، اس وقت تک مسجدوں کے سامنے لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسا بجائی جائے گی- انہوں نے احتجاج جاری رکھنے کا انتباہ دیا تھا-